آگرہ،25دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آگرہ میں ایک دلت طالبہ کی سنسنی خیز قتل کی واردات سے پورا اترپردیش دہل اٹھا،تقریبا ایک ہفتے قبل دو موٹر سائیکل سوار نے سنجلی نامی طالبہ کوزہریلا مواد ڈال کرسرعام آگ کے حوالے کردیاتھا۔اس کے بعد سنگین حالت میں لڑکی کو دہلی کی ہسپتال میں داخل کرایا گیا،جہاں زندگی اور موت کے درمیان کش مکش کے بعد 14سالہ معصوم نے دم توڑ دیا۔
یوپی پولیس کے تمام دعوؤں کی ہوا اُس وقت نکل گئی جب بات بات پرانکاؤنٹرکرنے والے یوگی کی’انکاؤنٹر پولیس‘ شرپسندوں کو گرفتار کرنے میں بھی ناکام ہو گئی ۔عوام اس بات پر سخت نارضگی کا اظہار کررہے ہیں کہ ایک معصوم بے گناہ لڑکی کوسرعام سڑک پر جلا دیا جاتا ہے اور اس کے قاتل 6دن بعد بھی پولیس کی پہنچ سے باہر ہیں ۔ مزید انسانیت کو شرمندہ کرنے والی بات یہ ہے کہ دلت طالبہ کی موت پرسیاست کرنے والے تمام لیڈران اس کے گھر جارہے ہیں اور صرف تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے تصاویر کھنچوانے میں لگے ہوئے ہیں،پانی طلب کرتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔
بے گناہ کی ماں نے کہا کہ 6دن ہوچکے ہیں اور ابھی تک قاتل پکڑے نہیں گئے ہیں،گھر میں 6دن سے چولہا نہیں جل رہاہے،پانی نہیں ہے،کہاں سے پلائیں،کہاں سے لیڈران کی خاطرتواضع کریں۔آگرہ کی لالواں گاؤں میں بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کے سامنے اس ماں کاغصہ پھوٹ پڑا،اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
خیال رہے کہ آگرہ کی لالواں گاؤں میں 18دسمبر کی دوپہر بھیڑ بھاڑوالی سڑک کے درمیان 14سال کی سنجلی نامی طالبہ پر 2غیر نامعلوم حملہ آوروں نے کوئی زہریلا موادپھینکا، پھر آگ لگائی اور غائب ہو گئے۔واردات کے وقت تقریبا 2بجے سنجلی اپنے ا سکول سے گھر کی طرف واپس لوٹ رہی تھی۔وہ سڑک 24گھنٹوں مصروف رہتی ہے اور واردات کے دن بھی وہاں بہت بھیڑ تھی لیکن حیرانی کی بات ہے کہ کسی نے بھی حملہ آور کو نہیں دیکھا،سنجلی حملہ کے بعد وہاں کافی دیر تک تڑپتی رہی،سنجلی کو زندہ جلا دیا گیا،سنگین حالت میں اسے دہلی کے صفدرجنگ ہسپتال لایا گیا،جہاں اس نے دم توڑدیا۔واردات کے بعد پولیس نے سنجلی کے چچازادبھائی سے پوچھ تاچھ کی،دوسرے دن اس نے بھی زہر کھاکر خود کشی کر لی،خاندان والوں کا الزام ہے پولیس نے بھائی کوٹارچر کیا؛ ااس لیے اس نے یہ قدم اٹھا یا،پولیس خودکشی کی بھی جانچ کر رہی ہے۔پولیس کا دعوی ہے کہ اس کے ہاتھ کچھ سراغ لگے ہیں،جلد ہی قاتلوں کو گرفتار کیا جائے گا۔